اس مولوی کو تو دیکھو کیسے سپیڈ میں گاڑی چلا رہا ہے

اس مولوی کو تو دیکھ
کیسے سپیڈ میں گاڑی چلا رہا ہے
کیسے ٹھیلے پہ کھڑے برگر کھا رہا ہے
کیسے ہنس رہا ہے
کیسے نماز پڑھ کے ہمیں دکھانا چاہ رہا ہے”

یہ وہ الفاظ تھے جو یونیورسٹی میں اکثر دوست کسی بھی داڑھی والے سٹوڈنٹ کو دیکھ کے چسکے لے لیکر کہا کرتے تھے
اور میں ان کی باتوں پہ مسکرا کے اکثر یہ سوچا کرتا تھا کہ اگر کسی نے داڑھی رکھی ہے تو کسی دنیاوی مقصد کے بغیر صرف رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسبت سے محبت کی وجہ سے رکھی ہوئی ہے
کم سے کم ہم سے تو زیادہ وہ اپنے عشق میں کھرا رہا ہوگا کے زمانے کی کڑوی اور زہریلی باتوں کے باوجود نوجوانی میں سنت نبوی کو پورا کر رہا تھا اور زمانے بھر کی لعنت ملامت صرف اپنے نبی صہ سے نسبت کی وجہ سے سہہ رہا تھا.
وہی سارے کام ہم کیا کرتے تھے تو کوئی کچھ نہیں کہتا تھا پر "داڑھی” والے کو لعنت ملامت اکثر ہوتی رہتی تھی
میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ
"کم سے کم ہم سے تو زیادہ کھرا ہوگا اسکا عشق اپنے آقا سے”

Advertisements

2 responses

  1. آپ نے درست سمت اشارہ کیا ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: