Monthly Archives: فروری, 2012

ذرائع ابلاغ وسیع پیمانے پر اخلاقی تباہی پھیلانے والا ہتھیاربن گئے ہیں۔

 موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ کو غیرمعمولی طاقت حاصل ہوگئی ہے ‘ذرائع ابلاغ اورمیڈیا کی آزادی کا شوربھی ہے‘ لیکن اس شورمیں آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا تصورپس منظرمیں چلا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ نے حکمرانوں کے جبرواستبدادکے سامنے تو مزاحمت کی ہے لیکن سرمایہ دارانہ ظلم واستحصال کا آلہ کاربھی بن گیاہے۔ زیادہ بہترالفاظ میں یہ کہاجاسکتاہے کہ پوری دنیا میں ذرائع ابلاغ ”وسیع پیمانے پر اخلاقی تباہی پھیلانے والا ہتھیار“بن گئے ہیں۔ پاکستان میں نائن الیون کے بعد دس برسوں میں ذرائع ابلاغ تہذیب مغرب اور سرمایہ دارانہ نظام کے قائد امریکا کی عسکری اور سیاسی دہشت گردی کے ساتھ ثقافتی دہشت گردی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے موجودہ کردار کا تعلق بھی امریکی ”وارآن ٹیرر“ سے ہے جو اسلام اور مغرب کی عالمی جنگ کا حصہ ہے۔ اس جنگ کے تحت عالم اسلام کی مخصوص ذہنی تشکیل بھی مقصودہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ بالخصوص ٹی وی چینل اس جنگ میں امریکا اوربھارت کے مقامی آلہ کار بن گئے ہیں۔ پاکستانی معاشرے کی دینی اور اخلاقی بنیادوں کوکھودڈالنے کے لیے ذرائع ابلاغ کے ثقافتی ڈرون حملے بھی جاری ہیں۔ اس عمل نے معاشرے کی پاکیزگی کو آلودہ کردیاہے۔ اس نے ہمارے گھروں اور ہمارے بچوں کی ایمانی حیات کے لیے خطرہ پیداکردیا ہے۔ معاشرے کو پاکیزہ رکھنا ہم سب کا ملّی فریضہ ہے۔ دولت کی پوجا کرنے والے مفاد پرست عناصرکو ذرائع ابلاغ کی اقدارکا تعین کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو اسلام اور انسانیت کی مشترکہ پاکیزہ اقدارکا پابندبنانا حکومت کابھی فریضہ ہے اور بداخلاقی اورعریانی وفحاشی کی یلغارکو روکنا ہرفردکی ذمہ داری ہے۔

پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹرکو تعلیم کے میدان میں کھلی چھوٹ

Educational system in Pakistan

 پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹرکو تعلیم کے میدان میں کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہاں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے معیار، نصاب، اساتذہ کی اہلیت اور تنخواہوں، فیسوں اور ہم نصابی سرگرمیوں پرکوئی چیک نہیں ہے۔ بھانت بھانت کے نصاب پڑھائے جارہے ہیں، اساتذہ کی اہلیت کا کوئی معیار نہیں، من مانی فیسیں وصول کی جاتی ہیں اور اچھے مسلمان اور اچھے پاکستانی تیارکرنے کی باتیں ہوا میں اڑا دی گئی ہیں۔  یہ ملک وملت کے خلاف گہری سازش ہی، کیونکہ یہ نظامِ تعلیم ہی ہوتا ہے جو معاشرے کے عقائد و اقدارکے مطابق افراد تیار کرتا ہے اور اگر یہ پراسیس رک جائے تو قومیں با نجھ ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں نظام تعلیم کے سا تھ جوکچھ ہورہا ہے وہ اس امرکا مظہر ہے کہ قوم کی قیادت ایسے ہاتھوں میں ہے جن کو ملک کی سالمیت،بقا اور اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت سے کوئی دلچسپی نہیں،

ویلنٹائن ڈے ,دنیاکی خاطر اپنی آخرت برباد کرنا خسارے کا سوداہے۔

آج پھرعاقبت نااندیش اور مغرب کے اسیرپاکستانی ویلنٹائن ڈے منارہے ہیں۔ یہ خرافات کے سواکچھ نہیں ہے اور خود مغرب میں اس کی سند موجود نہیں کہ اس دن کا آغازکب سے اورکیوں ہوا؟ بھارتی ڈرامے بھی اس رجحان کو فروغ دے رہے ہیں حالانکہ بھارتی معاشرے میں بھی یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔ افسوسناک با ت یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے کی لعنت اور فحاشی کو فروغ دینے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ٹی وی چینلز اور کچھ اخبارات آگے آگے ہیں۔ اس پر احتجاج کیاجائے تو اسے آزادی اظہارکی راہ میں رکاوٹ سمجھاجاتاہے حالانکہ مادرپدرآزادی کسی بھی صالح معاشرے میں قابل قبول نہیں ہے ایک مسلمان کویہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جس قوم سے محبت رکھے گا‘ اس کے طورطریقے اختیارکرے گا‘ آخرت میں اسی کے ساتھ اٹھایاجائے گا۔ دنیاکی خاطر اپنی آخرت برباد کرنا خسارے کا سوداہے۔

 

دوست ہیرے کی مانند ہے اور بھائی سونے کی مانند

حضرت شیخ سعدی سے کسی نے پوچھا
دوست اور بھائی میں کیا فرق ہوتا ہے-
         شیخ سعدی فرمانے لگے 

” دوست ہیرے کی مانند ہے اور بھائی سونے کی مانند ”
وہ شخص بہت حیران ہوا اور کہنے لگا
حضرت ! بھائی جو حقیقی اور سگا رشتہ ہے اسے
آپ کم قیمت چیز سے منسوب کر رہے ہیں – اس میں کیا حکمت ہے ؟
شیخ سعدی نے فرمایا –
سونا اگرچہ کم قیمت ہے لیکن اگر ٹوٹ جائے تو اسے پگھلا کر اصل شکل دی جا سکتی ہے جب کہ ہیرا اگر ٹوٹ جائے تو اسے اصل شکل نہیں دی جا سکتی
بھائیوں میں اگر وقتی چپقلش ہو جائے تو وہ دور ہو جاتی ہے – لیکن اگر دوستی کے رشتے میں کوئی دراڑ آجائے تو اسے دور نہیں کیا جا سکتا۔

اگر اس ماہِ مبارک میں ہم صرف ایک سنت کو ہمیشہ کے لیے اپنانے کا ارادہ کرلیں تو شاید اس محبت کا ایک ادنیٰ سا حق ادا ہوسکے جس کا دعویٰ ہم ببانگ دہل کرتے ہیں

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا جذباتیت نہیں بلکہ عبادت ہی‘ تو بھلا ہم اُن سے محبت کابرملا اظہار کیوں نہ کریں؟ کیوں نہ ڈنکا بجائیں!‘ شادیانے بجائیں! چونکہ ترقی یافتہ ممالک میں محبت کے اظہار کے لیے کچھ ایام مخصوص ہوتے ہیں لہٰذا ہم نے بھی اس کام کے لیے ربیع الاوّل کا مہینہ مخصوص کرلیا ہے۔ ادھر ربیع الاوّل کا گلی میں چاند نکلا ادھر عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اژدھام ہوا۔ گلیاں چوبارے سجا دیئے گئی‘ ممبر و محراب چمکا دیئے گئی‘ خانقاہوں‘ درباروں اور مساجد میں چراغاں کردیا گیا‘ ہر گھر‘ ہر عمارت‘ ہر گلی‘ ہر کوچے میں سبز جھنڈا لہرا دیا گیا۔ 14 اگست کی روایت کی طرح ہر ہاتھ میں جھنڈا‘ ہر دکان میں جھنڈا‘ ہر فٹ پاتھ پہ جھنڈا‘ ہر بازار میں جھنڈا نظر آنے لگا‘ ہر گلی میں ایک ٹینٹ لگا ہی‘ ہر لاوڈ اسپیکر سے صدا آرہی ہے ”جشن آمد رسول اللہ ہی اللہ“ عیقدت کے پھول نچھاور کیے جارہے ہیں‘ محبت کے گلدستے پیش کیے جارہے ہیں۔ سیرت کے جلسے ہورہے ہیں‘ نعتیہ مشاعرے پڑھے جارہے ہیں‘ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منایا جارہا ہی‘ عطر پاشی کی جارہی ہی‘ گل پاشی کی جارہی ہی‘ نعت خوانوں پر روپے اشرفی‘ ڈالر و درہم لٹائے جارہے ہیں۔ ان محافل میں شرکت کو خوش بختی و سعادت سمجھنے کے ساتھ ساتھ نجات کی گارنٹی سمجھا جارہا ہے۔ خواتین نہایت ادب و احترام‘ تیاری اور اہتمام کے ساتھ محفل میلاد میں شریک ہورہی ہیں‘ آنکھوں میں کجرا اور ہاتھوں میں گجرا سجا ہوا ہی‘ بہترین تراش خراش کے لباس میں ملبوس ہیں‘ گوٹے کنارے کے دوپٹے برہنہ سروں کو آج ڈھانپے ہوئے ہیں‘ ثواب بھی مل رہا ہے اور شیرنی بھی ۔ نعتوں کے نئے البم ریلیز ہورہے ہیں‘ مشہور مغنیوں کے علاوہ اداکارائیں اور فن کارائیں نعت خوانی کی سعادت سے مشرف ہورہی ہیں‘ نعت خواں صبح اس محفل میں‘ شام اس محفل میں‘ دن اس ریکارڈنگ میں‘ رات اس ریکارڈنگ میں (کیا فیوض و برکات ہیں! واللہ!) کہہ کہہ کر جھوم جھوم کر نعت پڑھتے جارہے ہیں‘ اعلان کرتے ہیںکہ ”میں تو پنجتن کا غلام ہوں‘ میں غلام ابن غلام ہوں“ دعویٰ کرتے ہیں کہ ”تم پر میں لاکھوں جان سے قربان یا رسول!“ جلسی‘ جلوس‘ ریلیاں‘ محافل‘ کانفرنس‘ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے فلوٹ‘ جشن میلاد النبی کے بینرز…. غرضیکہ کوئی کسر نہیں چھوڑتے اظہار عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں۔ ہم چونکہ ہر کام میں ”دکھاوے“ کے قائل ہوچکے ہیں اس لیے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی دکھاوے سے باز نہیں آتی‘ حد سے گزر جاتے ہیں‘ غلو کر جاتے ہین‘ جذبات کے اس ریلے میں یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہم کر کیا رہے ہیں؟ دھوم دھام سے جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی منا لیتے ہیں۔ ہم سب کچھ کرلیتے ہیں مگر وہ نہیں کرتے جو آپ کو پسند ہی‘ جس میں آپ کی خوشنودی ہے۔ اگر ہم کسی کام کو کرنے سے قاصر ہیں تو وہ صرف اسوہ حسنہ کی پیروی ہے۔ اگر اس ماہِ مبارک میں ہم صرف ایک سنت کو ہمیشہ کے لیے اپنانے کا ارادہ کرلیں تو شاید اس محبت کا ایک ادنیٰ سا حق ادا ہوسکے جس کا دعویٰ ہم ببانگ دہل کرتے ہیں۔