ذرائع ابلاغ وسیع پیمانے پر اخلاقی تباہی پھیلانے والا ہتھیاربن گئے ہیں۔

 موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ کو غیرمعمولی طاقت حاصل ہوگئی ہے ‘ذرائع ابلاغ اورمیڈیا کی آزادی کا شوربھی ہے‘ لیکن اس شورمیں آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا تصورپس منظرمیں چلا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ نے حکمرانوں کے جبرواستبدادکے سامنے تو مزاحمت کی ہے لیکن سرمایہ دارانہ ظلم واستحصال کا آلہ کاربھی بن گیاہے۔ زیادہ بہترالفاظ میں یہ کہاجاسکتاہے کہ پوری دنیا میں ذرائع ابلاغ ”وسیع پیمانے پر اخلاقی تباہی پھیلانے والا ہتھیار“بن گئے ہیں۔ پاکستان میں نائن الیون کے بعد دس برسوں میں ذرائع ابلاغ تہذیب مغرب اور سرمایہ دارانہ نظام کے قائد امریکا کی عسکری اور سیاسی دہشت گردی کے ساتھ ثقافتی دہشت گردی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے موجودہ کردار کا تعلق بھی امریکی ”وارآن ٹیرر“ سے ہے جو اسلام اور مغرب کی عالمی جنگ کا حصہ ہے۔ اس جنگ کے تحت عالم اسلام کی مخصوص ذہنی تشکیل بھی مقصودہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ بالخصوص ٹی وی چینل اس جنگ میں امریکا اوربھارت کے مقامی آلہ کار بن گئے ہیں۔ پاکستانی معاشرے کی دینی اور اخلاقی بنیادوں کوکھودڈالنے کے لیے ذرائع ابلاغ کے ثقافتی ڈرون حملے بھی جاری ہیں۔ اس عمل نے معاشرے کی پاکیزگی کو آلودہ کردیاہے۔ اس نے ہمارے گھروں اور ہمارے بچوں کی ایمانی حیات کے لیے خطرہ پیداکردیا ہے۔ معاشرے کو پاکیزہ رکھنا ہم سب کا ملّی فریضہ ہے۔ دولت کی پوجا کرنے والے مفاد پرست عناصرکو ذرائع ابلاغ کی اقدارکا تعین کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو اسلام اور انسانیت کی مشترکہ پاکیزہ اقدارکا پابندبنانا حکومت کابھی فریضہ ہے اور بداخلاقی اورعریانی وفحاشی کی یلغارکو روکنا ہرفردکی ذمہ داری ہے۔

Advertisements

4 responses

  1. ہم تمام الزام میڈیا پر بھی نہیں ڈال سکتے یہ ہماری اپنی کوتاہی و نالاقی ہے کہ میڈیا ہم پر اپنے رائے و مرضی تھوپ دیتا ہے۔

    1. ُآپ کی بات درست ہے شعیب بھائی کچھ کمزوری ہماری بھی ہے

    2. شعیب بھائی پہلے کہتے تھے میڈیا وہ دکھاتا ہے جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں پر میرے ذاتی خیال میں یہ چیز اب ختم ہو گئی ہے۔ اب میڈیا جو دکھاتا ہے آہستیہ آہستہ یا جلدی جلدی وہ معاشرے میں قبولیت حاصل کر لیتا ہے

  2. شعیب صاحب بندہ میوزک سنٹر میں بیٹھ کر چاہے اسکو گانے کی آواز بھی نہ آئے یہ ناممکن ہے۔ آپ اس ٹی بی کو گھر سے نکالے بغیر میڈیا کی سلو پوائزنگ جو وہ ہماری نئی نسل کو کررہا ہے کو کبھی بھی نہیں روک سکتے ، چاہے والدین اپنے بچوں کو کتنے ہی اچھے مدارس، سکولوں میں پڑھا لیں، انکو کتنی ہی اچھی سوسائٹی مہیا کردیں، یہ گھر میں بیٹھا دجال اکیلا ہی انکی ساری محنت غرق کرسکتا ہے۔ کیبل نے تو اب ہر گھر کو سینما بنا دیا ہے۔اس ناچ گانے کے ماحول میں پلنے والی نسل سے صاحب ایمان ہونے کی امید رکھنا ایسے ہی جیسے کانٹوں کے بیج بو کر پھولوں کی فصل کی توقع رکھنا ۔ ۔
    اللہ ہی ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: