Monthly Archives: اپریل, 2012

غریب کا بچہ انڈا چرا لے تو اسے اندھیری کوٹھڑیوں میں بند کردیا جاتا ہے

کوئی عام شخص جج کے سامنے گریبان کھول کر چلا جائے تو اسے عدالت کی توہین تصور کیا جاتا ہے اور اُدھر اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے ججوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا ہوا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت ایک کے بعد ایک حکم دیے جارہی ہے اور حکومت ان احکامات کو صرف ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینکتی، پہلے انہیں جوتوں تلے خوب رگڑتی بھی ہے۔ غریب کا بچہ انڈا چرالے تو اسے اندھیری کوٹھڑیوں میں بند کردیا جاتا ہے لیکن وزیراعظم کا بیٹا کروڑوں روپے ڈکارنے کا الزام لگنے کے باوجوگلچھرے اڑاتاپھررہا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے ایک نیا رواج متعارف کرایا ہے، جو جتنی زیادہ لوٹ مار کرتا ہے اسے اتنا ہی بڑاعہدہ بطور انعام دیا جاتا ہے، اگر عدالت کسی کو کرپشن کا ملزم ٹھہرادے تو گویا اس کی لاٹری کھل گئی، ایک دو تین نہیں درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ عدالت نے جس افسر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا، حکومت نے اسے پہلے سے زیادہ پرکشش عہدے پر بٹھادیا۔ غالباً پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں قانون پر اتنے ’’اچھے‘‘ طریقے سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں سابق وزیرپانی وبجلی راجاپرویزاشرف سمیت متعدد افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا، حکومت نے عدالتی فیصلے پر فوری ’’عمل درآمد‘‘ کرتے ہوئے راجا صاحب کو ایک دوسری وزارت سے نوازدیا۔ باقی ملزمان کو بھی پورا سرکاری پروٹوکول دیا جارہا ہے

فوج سیاچن میں کیا کررہی ہے؟

   نوازشریف کی سیاچن کو یکطرفہ خالی کرنے کی بات بھی انتہائی مضحکہ خیز ہے.اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیاچن کی جنگ پاکستان اور بھارت پر بوجھ بن چکی ہے، ماہانہ کروڑوں روپے اس میں پھونکے جارہے ہیں، اگر یہی رقم فلاح وبہبود کے کاموں پر خرچ کی جائے تو بہت سے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں، لیکن معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا میاں صاحب نے بیان کیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں فوج سیاچن میں کیا کررہی ہے؟ میاں صاحب! فوج وہاں پر پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑرہی ہے، سجیلے جوانوں نے بھارت کی پیش قدمی کو روکا ہوا ہے۔ نئی دہلی کی نظریں برف پوش پہاڑوں پر نہیں گلگت بلتستان اور شاہراہ قراقرم پر ہے۔ اگر پاک فوج جانوں کا نذرانہ دے کر بھارت کو سیاچن پر نہ روکتی تو آج یہ جنگ اسلام آباد کے قریب لڑی جارہی ہوتی۔ ’’دنیا کو پتا ہے کہ پاک فوج سیاچن میں کیوں بیٹھی ہے، کوئی بغیر کسی وجہ کے 22ہزار فٹ بلند چوٹیوں پر نہیں بیٹھتا جہاں آکسیجن بھی نہ ہو۔‘‘، پاک فوج کی حیثیت وہاں پر حملہ آور کی نہیں ہے جو وہ خود غیرمشروط طو رپر علاقہ چھوڑکر واپس آجائے۔ دوسری بات، بالفرض اگر پاک فوج پیچھے ہٹتی بھی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ بھارت آگے نہیں بڑھے گا؟ اور کیا یہ
Aپسپائی عملاً بھارت کا قبضہ تسلیم کرنا نہیں ہوگی؟ 

ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال ، خون ناحق کس کی گرد ن پر ہو گا ؟

 ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال ان کے پیشے کی بنیادی اخلاقیات کے خلاف اورصوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی غریبوں کوقتل کرنے کے مترادف ہے ۔ ینگ ڈاکٹرزکو اپنے مطالبات منوانے کے لیے کوئی دوسراراستہ اختیارکرناچاہیے یہ طریقہ مسیحائی کے منافی ہی نہیں بلکہ مسیحائی کے نام پربدنما داغ ہے۔ پنجاب حکومت اورڈاکٹروں کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں ہسپتالوں میں ہونے والی اموات ذمہ داروں کے خلاف سخت اقدام کیے جائیں، ڈاکٹروں اور صوبائی حکومت کومریضوں کو بے یارو مدد گار چھوڑنے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیارکریں۔ اپنے جائز مطالبات کے لئے احتجاج ڈاکٹروں کا حق ہے مگر ڈاکٹرز اپنے پیشہ کا احترام کرتے ہو ئے مریضوں کے علاج معالجہ میں کمی نہ کریں۔ڈاکٹروں کی شکایات اپنی جگہ درست، لیکن کیا انہیں اپنے مقام اور فرائض منصبی کا بالکل بھی اندازہ نہیں رہا اور کیا ان کے سینے میں دھڑکتے دل میں رحم نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی جو ہر کچھ عرصے بعد اپنی شکایات کے ازالے کے لئے ہڑتال کا سہارا لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بیمار اور حادثات کے شکار لوگوں کی تکالیف کئی گنا بڑھ جاتی ہیں اور اس ہڑتال کے نتیجے میں ہونے والے اموات کا خون ناحق کس کی گردن پر ہو گا؟

جسے دیکھواٹھ کر پاکستان کے خلاف بولنا شروع کردیتاہے

جسے دیکھواٹھ کر پاکستان کے خلاف بولنا شروع کردیتاہے اور جوبراہ راست مخالفت نہیں کرتا وہ پاکستان توڑنے پر تلا ہو اہے۔ کہیں بلوچ علیحدگی پسند ہیں اور کہیں سندھی قوم پرست ۔ کچھ لوگ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں اور کچھ سندھ کو علیحدہ ملک بنانے کے دعویدار ہیں۔ اسی اثناء میں کراچی میں ایک بار پھر مہاجر صوبے کی تحریک چل پڑی ہے۔ اس کے پیچھے کون ہے‘ یہ کوئی راز نہیں مہاجر صبوبے کی تحریک کو تقویت دینے کے لیے کانگریسی لیڈر ابوالکلام آزاد کو زندہ کردیا گیا ہے اور قیام پاکستان سے پہلے کی ان کی تقاریرٹی وی چینلزپر چلوائی جار ہی ہیں جن میں بھارت سے ہجرت کرکے آنے والوں کو اکسایا جارہاہے ۔ حکومت تو سوئی پڑی ہے ورنہ اس کے لیے یہ معلوم کرنا مشکل نہیں کہ ٹی وی چینل پر ابوالکلام کی تقاریر مسلسل کون چلوارہاہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت سے کوئی شکوہ ہی بے جا ہے۔ اے این پی کو پہلی مرتبہ ایک صوبے کی حکومت ملی ہے۔ اس کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے کبھی بھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اوراس جماعت کے بانیوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی۔ خان عبدالغفار عرف باچا خان نے تو پاکستان کی مٹی میں دفن ہونا بھی گوارہ نہیں کیا۔ پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے وہ سرحدی گاندھی کہلاتے تھے۔

A Tribute to Siachen Mujahids

میں اکثر ماں سے کہتا تھا
اْس دن کا انتظار کرنا
جب دھرتی تیرے بیٹے کو پکارے گی
اور ان عظیم پربتوں کے درمیان بہتے
اْشو کے دریا کا نیلا پانی
اور سوات کی گلیوں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتی
روشنی کی کرنیں پکاریں گی۔ ۔ ۔
اور پھر اس دن کے بعد
میرا انتظار نہ کرنا
کہ خاکی وردی میں جانے والے اکثر
سبز ہلالی میں لوٹ کر آتے ہیں۔ ۔ ۔
مگر میری ماں۔ ۔ ۔
آج بھی میرا انتظار کرتی ہے
گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھی لمحے گنتی رہتی ہے
میرے لیے کھانا ڈھک رکھتی ہے۔ ۔ ۔
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اْس سے کہنا،
وہ گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر
میرا انتظار نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ ۔
خاکی وردی میں جانے والے
لوٹ کر کب آتے ہیں؟
میں اکثر ماں سے کہتا تھا
یاد رکھنا !
اس دھرتی کے سینے پہ
میری بہنوں کے آنسو گرے تھے،
مجھے وہ آنسو انہیں لوٹانے ھیں۔ ۔ ۔
میرے ساتھیوں کے سر کاٹے گئے تھے
اور ان کا لہو پاک مٹی کو سرخ کر گیا تھا۔۔
مجھے مٹی میں ملنے والے
اْس لہو کا قرض اتارنا ہے۔ ۔ ۔
اور میری ماں یہ سن کر
نم آنکھوں سے
مسکرا دیا کرتی تھی۔ ۔ ۔
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اْس سے کہنا
اس کے بیٹے نے لہو کا قرض چکا دیا تھا
اور
دھرتی کی بیٹیوں کے آنسو چن لیے تھے۔ ۔ ۔
میں اکثر ماں سے کہتا تھا
میرا وعدہ مت بھلانا،
کہ جنگ کے اس میدان میں
انسانیت کے دشمن درندوں کے مقابل
یہ بہادر بیٹا پیٹھ نہیں دکھائے گا
اور ساری گولیاں
سینے پہ کھائے گا
اور میری ماں
یہ سن کر
تڑپ جایا کرتی تھی
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اْس سے کہنا،
اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا
اس نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی
اور ساری گولیاں سینے پہ کھائیں تھی۔ ۔۔ ۔
میں اکثر ماں سے کہتا تھا
تم فوجیوں سے محبت کیوں کرتی ہو؟
ہم فوجیوں سے محبت نہ کیا کرو، ماں!
ہمارے جنازے ہمیشہ جوان اْٹھتے ہیں۔ ۔ ۔
اور میری ماںـ ـ ـ
میری ماں یہ سن کر
رو دیا کرتی تھی ـ ـ ـ
کبھی جو تمہیں میری ماں ملے
تو اْس سے کہنا،
وہ فوجیوں سے محبت نہ کیا کرے۔ ۔ ۔
اور
دروازے کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر
میرا انتظار نہ کیا کرے
سنو۔ ۔ ۔!
تم میری ماں سے کہنا
اْس سے کہنا وہ اب بھی ہنستی رہا کرے کہ
شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں