ذرا تصور کیجئے

 ذرا تصور کیجئے! ایسے ملک کے بارے میں باہر کی دنیا کیا سوچے گی جس کے شہری جھوٹی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ کر غیر قانونی طریقوں سے ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیتے پھر رہے ہوںاور پھر ان کی کارستانیاں کوئی اور نہیں بلکہ اسی ملک میں بے نقاب ہوں جہاں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے… ذرا سوچیے! اس ملک کا کیا تصور ہوگا جس کے باشندے جھوٹی سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے اپنے ملک پر تنقید کے آرے چلاتے ہوں ۔ جی ہاں! وطن عزیز کو بدنام کے لیے ایک ایسا ہی گروہ سرگرم ہے جس کو ہم اور آپ جماعت احمدیہ یا قادیانیوں کے نام سے جانتے ہیں اور تشویشناک امر یہ ہے کہ اس گروہ کی جعلسازی کو جرمنی کی وفاقی پولیس نے اس وقت بے نقاب کیا جب چند روز قبل شہر ڈارم شاڈ کے قریب فونک شاڈ میں جماعت احمدیہ کے چار گھروں پرچھاپا مار کر جماعت احمدیہ کے صدر ثناء اﷲ سمیت تین لوگوں اظہرجوئیا، عمر جوئیا اور ناصر جوئیا کو گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ یورپ کی تاریخ میں غیر قانونی سیاسی پناہ حاصل کرنے میں مدد دینے والا اب تک کا سب سے بڑا گروہ ہے، اس گروہ کے تانے بانے کس خوفناک حد تک پھیلے ہوئے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایے کہ جرمن پولیس نے زیر حراست احمدیوں سے پوچھ گچھ کے نتیجے میں ایک جرمن وکیل بوش برگ اور اس کی احمدی سیکریٹری روبینہ کے گھروں پر بھی چھاپے مارے ہیں۔ انکشافات در انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، جرمن ریڈیو چیخ رہا ہے، یورپی اخبارات چنگھاڑرہے ہیں۔ پولیس کمانڈوز ایک شہر سے دوسرے شہر مسلسل چھاپے مار کر احمدیوں کو گرفتار کر رہے ہیں، ذرائع کے مطابق احمدیوں کا یہ گروہ ایک طویل عرصے سے سرگرم تھا اور پاکستان سے ان گنت احمدیوں کو غیر قانونی طریقے سے جرمنی اور یورپ کے دیگر شہروں میں پناہ دلوا چکا تھا ۔ جرمن میڈیا کے مطابق احمدیوں کے خلاف جرمنی کی تاریخ میں سب سے بڑی پولیس کارروائی کی گئی جس میں بھاری پولیس نفری استعمال ہوئی او رپولیس کمانڈوز نے بھی اس میں بھرپور حصہ لیا۔ جماعت احمدیہ کے بعض ’’ لبرل‘‘ ذرائع نے جرمنی پولیس کی کارروائی پر کچھ حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں۔ ان کے مطابق جماعت احمدیہ کی مرکزی قیادت اس بات کا حتمی فیصلہ کرچکی ہے کہ پاکستان سے بڑی تعداد میں احمدیوں کو یورپ کے مختلف ملکوں میں بسایا جائے ، اس ضمن میں مسلم نوجوانوں کو بھی بیرون ملک کے سہانے سپنے اور احمدی خواتین سے شادی کا لالچ دے کر جرمنی، لندن، کینیڈا ، ہالینڈ ، بیلجئیم، اسپین و دیگر یورپی ممالک میں بسایا جارہا ہے اور اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان میں متعدد احمدی گروہ سرگرم ہیں۔

Advertisements

8 responses

  1. دیکھیے یہ آغاز کس انجام کی طرف لے جاتا ہے

  2. اللہ پیارےپاکستان کی ان دشمنوںسے حفاظت فرمائے آمین

  3. تصور کر کے کرنا کیا ہے؟؟

  4. یہ غیر قانونی سیاسی پناہ کیا ہوتی ہے بھائی؟ پاکستان کا قانون احمدیوں پر پابندیاں لگاتا ہے۔ بطور انسان ہر شخص کا حق ہے کہ ظلم سے نجات پانے کے لئے ہجرت کرے۔ کچھ لوگ ویزہ کے حصول کے لئے ایجنٹوں کا سہارہ لیتے ہیں۔ ویزہ کا مقصد پاکستان سے باہر نکلنا ہے تاکہ اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق سیاسی پناہ حاصل کی جا سکے۔

    باقی تو آپ کی بد ظنی اور گپیں ہیں- اگر کوئی احمدی، اپنے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو سزا ملنی چاہیئے۔ لیکن پاکستان سے ہجرت کرکے احمدی، شیعہ، ہزارہ، بلوچ، ، قبائلی پٹھان ، اسماعیلی جہاں بھی جائیں، ان کا حق ہے۔

    1. جناب ان پر بطور پاکستانی کوئی پابندی نہیں مگر وہ پابندیوں کا رونا رو کر سیاسی پناہ حاصل کر رہے ہیں

      1. تو کیا پاکستان کے قانون میں احمدیوں پر کوئی پابندیاں نہیں ہیں؟

      2. بطور شہری کوئی پابندی نہیں مگر اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلوائیں جو وہ نہیں ہیں تو یہ غیر قانونی ھے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: