ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال ، خون ناحق کس کی گرد ن پر ہو گا ؟

 ینگ ڈاکٹروں کی ہڑتال ان کے پیشے کی بنیادی اخلاقیات کے خلاف اورصوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی غریبوں کوقتل کرنے کے مترادف ہے ۔ ینگ ڈاکٹرزکو اپنے مطالبات منوانے کے لیے کوئی دوسراراستہ اختیارکرناچاہیے یہ طریقہ مسیحائی کے منافی ہی نہیں بلکہ مسیحائی کے نام پربدنما داغ ہے۔ پنجاب حکومت اورڈاکٹروں کی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں ہسپتالوں میں ہونے والی اموات ذمہ داروں کے خلاف سخت اقدام کیے جائیں، ڈاکٹروں اور صوبائی حکومت کومریضوں کو بے یارو مدد گار چھوڑنے کی بجائے مذاکرات کا راستہ اختیارکریں۔ اپنے جائز مطالبات کے لئے احتجاج ڈاکٹروں کا حق ہے مگر ڈاکٹرز اپنے پیشہ کا احترام کرتے ہو ئے مریضوں کے علاج معالجہ میں کمی نہ کریں۔ڈاکٹروں کی شکایات اپنی جگہ درست، لیکن کیا انہیں اپنے مقام اور فرائض منصبی کا بالکل بھی اندازہ نہیں رہا اور کیا ان کے سینے میں دھڑکتے دل میں رحم نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی جو ہر کچھ عرصے بعد اپنی شکایات کے ازالے کے لئے ہڑتال کا سہارا لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں بیمار اور حادثات کے شکار لوگوں کی تکالیف کئی گنا بڑھ جاتی ہیں اور اس ہڑتال کے نتیجے میں ہونے والے اموات کا خون ناحق کس کی گردن پر ہو گا؟

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: