قابل رحم ہے وہ قوم جس کا حکمران سزا یافتہ مجرم ہو

 اٹارنی جنرل نے فرمایا کہ ’’ شعرو شاعری سے سزا نہیں دی جا سکتی‘‘ لیکن انہیں شاید یہ نہیں معلوم کہ جس شعرو شاعری کا وہ حوالہ دے ہیں اس کا تعلق سزا کے فیصلے سے نہیں ہے بلکہ فیصلے سے ہٹ کر جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ ہے اور اس کا تعلق بھی اخلاقیات سے ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جسٹس کھوسہ نے لبنان کے عیسائی شاعر اور فلسفی خلیل جبران کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے وہ فیصلے کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی فیصلے کی جان ہے۔ اس سب کا تعلق بھی ا خلاقیات سے ہے لیکن اس میں غلط کیا ہے؟ یہ بات کس کو ناگوار گزری کہ’’ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے رہنما قانون کی نافرمانی کرکے شہادت کے متلاشی ہیں‘ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے حکمران قانون کا مذاق اڑاتے ہیں اور قابل رحم ہے وہ قوم جو اپنے کمزوروں کو سزا دیتی ہے مگر طاقت وروں کو کٹہرے میں لانے سے کتراتی ہے ۔ ترس آتاہے ایسی قوم پر جو مخصوص افراد کے لیے من پسند انصاف چاہتی ہے‘‘۔ اگر پاکستان میں صورتحال ایسی ہی ہے تو اس کے ذمہ داران کو شرم کرنی چاہیے اور اگر وہ سمھجتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے تو چراغ پا ہونے کی ضرورت نہیں۔ مگر اس کا کیا کیاجائے کہ یہ قوم واقعی قابل رحم ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی فی الوقت تو مجرم ہو گئے لیکن وہ نجانے کس حد تک جانے کی بات کرتے ہیں اور وکیل استغاثہ مجرم کی پشت پر کھڑا اعلان کررہاہے کہ فیصلہ تسلیم نہ کیاجائے۔ کیا اس لیے کہ مخصوص فرد کو من پسند ’’انصاف ‘‘ نہیں ملا۔ گیلانی صاحب خط لکھ دینے سے آپ کے صدر کا کچھ نہ بگڑتا مگر آپ نے خود بات بگاڑدی۔ قابل رحم ہے وہ قوم جس کا حکمران سزا یافتہ مجرم ہو۔

Advertisements

2 responses

  1. you are wright sir thay are not human person thay are animal

    1. بس دعا کریں اللہ پاک ان ظالموں سے ہماری جان چھڑوا دے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: