اک مرد قلندر

قاضی حسین آج ہم میں نہیں رہے لیکن دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی لوگ زندہ رہے جو انسانیت کی خدمت کرسکے اس کے علاوہ دوسروں کی حیثیت دیوار پر لگے کلینڈر جیسی رہی جسے سال گزرنے کے بعد ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور وہ کسی کو یاد بھی نہیں ہوتے۔ آج ماڈرن سائنس بھی یہ ماننے پر مجبور ہے کہ نیکی اور خدمت مرنے کے بعد بھی انسان کو مرنے نہیں دیتیں قوموں کی زندگی میں رول ماڈل ضروری ہوتے ہیں جو ان کی تاریخ رقم کرتے ہیں ہمارے پاسQazi Sahib بدقسمتی سے سیاستدان اور حکمران بہت ہیں لیکن لیڈر کم بقول نیلسن منڈیلا سیاستدان اگلے الیکشن کی فکر کرتا ہے لیکن لیڈر اگلی نسل کی فکر کرتا ہے ۔جب آپ روشنی میں ہوتے ہیں تو ہر چیز آپ کے پیچھے ہوتی ہے اور جب اندھرے میں ہوتے ہیں تو سایہ بھی پیچھا چھوڑ دیتا ہے۔ قاضی صاحب جیسے لوگوں نے ساری زندگی اقتدار سے زیادہ اقدار کی فکر کر نے میں گزار دی۔ تاریخ میں کتنے حکمران، ان کے اتحادی اور حواری قبرستان کی مٹی بنے مگر احترام بہت کم لوگوں نے کمایا عہدے اور حکمرانی تو ڈھلی چھائوں ہیں۔ تاریخ کا سفر رہتی دنیا تک چلتا رہے گا اور جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا پر اس کی گونج کہیں نہ کہیں زندہ رہے گی۔  پاکستان کی سیاسی تاریخ قاضی حسین احمد کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: