Category Archives: شاعری

میرے وطن کے اُداس لوگو

نہ خود کو اتنا حقیر سمجھو
کہ کوئی تم سے حساب مانگے
نہ خود کو اتنا قلیل سمجھو
کہ کوئی اُٹھ کر کہے یہ تم سے
وفائیں اپنی ہمیں لُٹا دو
وطن کو اپنے ہمیں تھما دو
اُٹھو اور اُٹھکر بتا دو اُن کو
کہ ہم ہیں اہل ایمان سارے
نہ ہم میں کوئی صنم کدہ ہے
ہمارے دل میں تو اک خُدا ہے
میرے وطن کے اُداس لوگو
جھکے سروں کو اُٹھا کے دیکھو
قدم تو آگے بڑھا کے دیکھو
ہے اک طاقت تمھارے سر پر
کرے گی سایہ جو اُن سروں پر
قدم قدم پر جو ساتھ دے گی
اگر گرے تو سنبھال دے گی
میرے وطن کے اُداس لوگو
اُٹھو چلو اور وطن سنبھالو


Advertisements

بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں

تپتی زمیں پر آنسوؤں کے پیار کی صورت ہوتی ہیں
چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں
بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں
دل کے زخم مٹانے کو
آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی
نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں
چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں
تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی
رداؤں جیسی ہوتی ہیں
بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں
بیٹیاں اَن کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی جھکا سکیں، کبھی مٹا سکیں
بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں
کبھی ہنسا سکیں، کبھی رلا سکیں
کبھی سنوار سکیں، کبھی اجاڑ سکیں
بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں
حد سے مہرباں، بیان سے اچھی
بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں