Category Archives: Uncategorized

قومی اسمبلی کی پانچ سالہ پارلیمانی کارروائی، 23 ارکان کچھ نہ بولے

قومی اسمبلی کی پانچ سالہ پارلیمانی کارروائی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 23 ارکان نے کبھی لب کشائی نہیں کی۔ ان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کے آٹھ آٹھ جبکہ مسلم لیگ ن اور عوامی نیشنل پارٹی کے دو دو ارکان شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی پانچ خواتین اور 18 مرد ارکان نے کبھی ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ ان میں پیپلزپارٹی کے چودھری افتخار نذیر، چودھری تصدق مسعود ، چودھری زاہد اقبال ، مرحومہ مہرالنساء آفریدی ، محمد طارق تارڑ،خدیجہ عامر ،رخسانہ بنگش اور مرحوم تاج محمد جمالی بھی شامل ہیں۔اے این پی کے ارباب محمد زاہد اور استقبال خان جب کہ نیشنل پیپلز پارٹی کے غلام مرتضیٰ خان جتوئی بھی پانچ سال خاموش رہے۔ رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ق کے عاصم نذیر،حامد یار ہراج، سمیرا ملک، تنزیلا عامر چیمہ ، صاحبزادہ محبوب سلطان، سردار محمد جعفر خان لغاری،احسان اللہ ریکی، سردار فاروق لغاری مرحوم بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہوں نے پانچ سالہ پارلیمانی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ مسلم لیگ ن کے محمد سلمان محسن گیلانی اور رانا زاہد حسین ،مسلم لیگ فنکشنل کے پیر سید صدر الدین شاہ راشدی اور آزاد رکن علی محمد خان نے بھی کبھی لب کشائی نہیں کی۔

رپورٹ) فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک)Arkan Assambly

Advertisements

ھائے کرپشن

 وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے بعض وزرا اور اہم شخصیات کے شدید دبائو پر حکومت کی مدت پوری ہونے سے 23 روز قبل 40ارب روپے کی سبسڈی اور باقاعدہ طریقہ کار کے تحت منظور نہ ہونے والے بعض منصوبوں کی 2 ارب روپے کی ادائیگیوں سے انکار پر موجودہ دور حکومت کی سب سے طاقتور ترین سمجھی جانے والی بیورو کریٹ وفاقی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو تبدیل کرکے ان کی جگہ صدر زرداری پر نواز شریف دور میں بننے والے کرپشن کے مقدمات کے شریک ملزم اور وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر کے طور پر آصف زرداری کیلیے پی ایس او کی خدمات انجام دینے والے گریڈ 21کے جونیئر افسر رائے سکندرکو پانی و بجلی کی وزارت کاقائمقام سیکرٹری مقرر کر دیا جبکہ وزارت کے اسپیشل سیکرٹری حمایت اللہ خان گریڈ 22 ‘ایڈیشنل سیکرٹری ارشد مرزا بھی نئے قائمقام سیکرٹری سے سینئر ہیں۔  انتہائی ذمہ دار حکومتی ذرائع کے مطابق نرگس سیٹھی سے نہ صرف وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار ،وفاقی وزیر امورکشمیر منظور وٹو بلکہ کئی انتہائی اہraja-parveez-asharafم شخصیات بھی ناراض تھیں جس پر نرگس سیٹھی نے خود وزیراعظم کودرخواست کی تھی کہ ان سے وزارت پانی و بجلی کا چارج واپس لیا جائے ۔کابینہ ڈویژن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی جنہیںچندماہ قبل ظفر محمودکی جگہ پانی وبجلی کی وزارت کی سیکرٹری کا اضافی چارج دیا گیا تھا، نے چارج سنبھالنے کے بعد وزارت پانی و بجلی،این ٹی ڈی سی سمیت دیگراداروں میں اربوں روپے کی کرپشن روکنے کے لیے اہم اقدامات کیے،  جبکہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کرانے، شہری اور دیہی علاقوں میںمساوی لوڈشیڈنگ کرنے کے اقدامات جبکہ وزارت میںبجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوںکے سی ای اوز کے ساتھ روزانہ 2 مرتبہ ویڈیوکانفرنس کے ذریعے لوڈ شیڈنگ کی تازہ صورتحال اور کار کردگی کا جائزہ لیتی رہی ہیں، وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے ایکسیئنز اور ایس ڈی اوز کے تبادلوں کی سفارشیںبھی مستردکر دیتی تھیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار نے نرگس سیٹھی کو سفارش کی تھی کہ این ٹی ڈی سی کے ایم ڈی کے عہدے پر گوجرانوالہ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر محبوب عالم کو تعینات کیا جائے اور محبوب عالم کی جگہ سپرنٹنڈنٹ انجینئر جاوید آزاد کو چیف ایگزیکٹو آفیسر لگایاجائے جس پر نرگس سیٹھی نے یہ کہہ کر وفاقی وزیر کے احکامات ماننے سے انکارکر دیا کہ محبوب عالم ایم ڈی کے عہدے کے لیے انتہائی جونیئر آفیسر ہیں اس عہدے پر انہیں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اہم عہدہ ہے جس کیلیے سینئر اور اہل آفیسر ہی تعینا ت کیا جائیگا جبکہ محبوب عالم کے پاس چیف ایگزیکٹو کا عہدہ بھی عارضی طو رپر ہے ۔ وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کی گئی چار رکنی کمیٹی جس میں وزیردفاع ،وزیر امور کشمیر ،سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری پانی و بجلی شامل تھے،کمیٹی کے اجلاسوںمیں میاںمنظور وٹو کے دباؤ پر سابق سیکرٹری خزانہ را نا واجد اور نرگس سیٹھی نے بجلی کے ٹیوب ویلوں کوفلیٹ ریٹ دینے کے لیے 40 ارب روپے کی سبسڈی دینے کی شدید مخالفت کی تھی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ق) اور دیگر بعض اہم وزرا کی طرف سے بعض ایسی کمپنیوںکو اربوں روپے کی جعلی ادائیگی کے لیے بھی نرگس سیٹھی پر دبا و ڈالا گیا تھا تاہم نرگس سیٹھی نے ایسی ادائیگیاں کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔

اک مرد قلندر

قاضی حسین آج ہم میں نہیں رہے لیکن دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی لوگ زندہ رہے جو انسانیت کی خدمت کرسکے اس کے علاوہ دوسروں کی حیثیت دیوار پر لگے کلینڈر جیسی رہی جسے سال گزرنے کے بعد ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور وہ کسی کو یاد بھی نہیں ہوتے۔ آج ماڈرن سائنس بھی یہ ماننے پر مجبور ہے کہ نیکی اور خدمت مرنے کے بعد بھی انسان کو مرنے نہیں دیتیں قوموں کی زندگی میں رول ماڈل ضروری ہوتے ہیں جو ان کی تاریخ رقم کرتے ہیں ہمارے پاسQazi Sahib بدقسمتی سے سیاستدان اور حکمران بہت ہیں لیکن لیڈر کم بقول نیلسن منڈیلا سیاستدان اگلے الیکشن کی فکر کرتا ہے لیکن لیڈر اگلی نسل کی فکر کرتا ہے ۔جب آپ روشنی میں ہوتے ہیں تو ہر چیز آپ کے پیچھے ہوتی ہے اور جب اندھرے میں ہوتے ہیں تو سایہ بھی پیچھا چھوڑ دیتا ہے۔ قاضی صاحب جیسے لوگوں نے ساری زندگی اقتدار سے زیادہ اقدار کی فکر کر نے میں گزار دی۔ تاریخ میں کتنے حکمران، ان کے اتحادی اور حواری قبرستان کی مٹی بنے مگر احترام بہت کم لوگوں نے کمایا عہدے اور حکمرانی تو ڈھلی چھائوں ہیں۔ تاریخ کا سفر رہتی دنیا تک چلتا رہے گا اور جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا پر اس کی گونج کہیں نہ کہیں زندہ رہے گی۔  پاکستان کی سیاسی تاریخ قاضی حسین احمد کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔

دوست ہیرے کی مانند ہے اور بھائی سونے کی مانند

حضرت شیخ سعدی سے کسی نے پوچھا
دوست اور بھائی میں کیا فرق ہوتا ہے-
         شیخ سعدی فرمانے لگے 

” دوست ہیرے کی مانند ہے اور بھائی سونے کی مانند ”
وہ شخص بہت حیران ہوا اور کہنے لگا
حضرت ! بھائی جو حقیقی اور سگا رشتہ ہے اسے
آپ کم قیمت چیز سے منسوب کر رہے ہیں – اس میں کیا حکمت ہے ؟
شیخ سعدی نے فرمایا –
سونا اگرچہ کم قیمت ہے لیکن اگر ٹوٹ جائے تو اسے پگھلا کر اصل شکل دی جا سکتی ہے جب کہ ہیرا اگر ٹوٹ جائے تو اسے اصل شکل نہیں دی جا سکتی
بھائیوں میں اگر وقتی چپقلش ہو جائے تو وہ دور ہو جاتی ہے – لیکن اگر دوستی کے رشتے میں کوئی دراڑ آجائے تو اسے دور نہیں کیا جا سکتا۔

پھربھی پانچ سال پورے کرنے کی خواہش؟

ابھی کچھ دن پہلے ہی صدرمملکت جناب آصف علی زرداری نے فرمایاتھاکہ ہمیں پانچ سال پورے کرنے دیں تو ملک کی تقدیربدل دیں گے‘ ہم نے معیشت کو مستحکم کیاہے‘ ہم سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں،پانچ سال پورے ہونے پر ملک کی تقدیر بدل دینے کا دعویٰ صدر مملکت نے اپنے اقتدارکے چار سال مکمل ہونے پرکیاہے اور اس عرصہ میں انہوں نے ملک کی تقدیرجس طرح بدلی ہے اور معیشت کو مستحکم کیاہے وہ سب کے سامنے ہے۔ عوام بلبلائے پھررہے ہیں، کپڑا، مکان توکجا روٹی کا حصول دشوارہوگیاہے۔ بچی کھچی مدت مل بھی گئی تو ماضی گواہ ہے کہ مستقبل میں کیا کریں گے۔ معیشت کی مزیدتباہی ، مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ اور بدعنوانی کے جال میں مزید استحکام۔ اس کا اظہاریوں تو روزانہ کی بنیاد پر ہورہاہے اور نئے سال کے آغازپر ہی ایک تحفہ تھمادیا گیا تھا مگر یکم فروری کو عوام کو مہنگائی کے جس بھیانک اورتباہ کن سونامی سے دوچارکیاگیاہے اس کی مثال تلاش کرنا مشکل ہے۔ پیٹرول، ڈیزل، سی این جی‘ ایل پی جی‘ مٹی کا تیل، سب ہی کچھ تو نہ صرف مہنگاکردیاگیا بلکہ اتنا بھاری اضافہ کیاگیا ہے کہ عوام کے ہوش اڑگئے ہیں۔ اضافہ چند پیسوں کا یا روپیہ دو روپیہ کا نہیں، لوٹ مارکے سب ریکارڈ توڑدیے گئے ہیں۔ پیٹرول پر 5 روپے 37 پیسے اور ڈیزل پر 4 روپے 64 پیسے فی لیٹر اضافہ ہواہے۔ ڈیزل کی قیمت پیٹرول سے کہیں زیادہ آگے نکل گئی ہے۔ یکم فروری سے پیٹرول 94 روپے 91 پیسے اورڈیزل 103 روپے 46 پیسے فی لیٹرہوگیاہے۔ یہ اندھیر نگری ،چوپٹ راج کا شاہکارہے۔ ڈیزل ہمیشہ سے پیٹرول کے مقابلے میں سستا رہاہے۔ بڑی گاڑیاں ڈیزل پرچلتی ہیں۔ کاشتکاربھی ٹیوب ویل اور ٹریکٹروں میں ڈیزل استعمال کرتے ہیں ۔ اب نہ صرف زرعی اجناس مزید مہنگی ہوںگی بلکہ نقل وحمل اور مسافربسوں کے کرائے بھی آسمان سے باتیں کریںگے جو پہلے ہی کم نہیں ہیں اور حکومتوں کا ان پرکوئی کنٹرول نہیں ہے۔ سی این جی پر چلنے والی بسیں ڈیزل کے حساب سے کرایہ وصول کرتی ہیں۔ اورکرائے ہی کیا حکومت کا توکسی بھی ایسے معاملے پرکنٹرول نہیں جس کا تعلق عوام سے ہو۔ بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے کہاگیاہے کہ چونکہ پچھلے ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھائی تھیں اس لیے ساری کسرنکال لی گئی ہے۔ اس حکومت کو اگر پانچ سال پورے کرنے دیے گئے اور مزید ایک سال کی مہلت دی گئی تو ماہانہ نہیں روزانہ کی بنیاد پرمہنگائی بڑھے گی اور تب تک جانے عوام کا کیاحال ہو۔ ایسا لگ رہاہے کہ حکومت کے آخری دنوں میں یہ طے کرلیاگیاہے کہ عوام اور ملک کی معیشت کو جتنا نقصان پہنچایاجاسکے‘ پہنچادیا جائے ۔ کیا حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ مہنگائی کا طوفان برپاکرکے اور لوٹ مار، بدعنوانی کا ریکارڈ بناکر وہ جب دوبارہ عوام کے پاس جائیں گے تو انہیں پذیرائی ملے گی‘ سرآنکھوں پربٹھایاجائے گا اور لوٹ مارکا ایک اور موقع فراہم کیاجائے گا؟
اس بدترین صورتحال پر پانچ سال پورے کرنے کی خواہش!۔