,ہم بھی وہاں موجود تھے , دو روزہ عالمی اردو بلاگرز کانفرنس

فیس بک اردوبلاگرز گروپ پر اس کانفرنس کا دعوت نامہ ملا تو بہت سے لوگوں کی طرح ہمیں بھی لگا کہ میلہ کسی اور نے کسی اور کے کہنے پر کسی اور کے ایجنڈا پر سجانا ہوگا۔بہر حال رجسٹریشن کر وا دی تو منتظمین کی طرف سے باقاعدہ دعوت نامہ اور تفصیلات بھی موصول ہو گیئں۔ ایم بلال ایم کا نام پڑھ کر بھی پروگرام بنایا کہ چلو یار اس نیک بندے سے تو ملاقات ہو گی جس نے مجھ جیسے ہزاروں افراد کے لئے اردو کمپیوٹنگ کو آسان بنایا۔26جنوری کی علی الصبح لاہور کے لئے روانہ ہوئے اور سیدھے ایوان صنعت و تجارت کی بلڈنگ پہنچ کر دم لیا تو منتظمین کو وہاں سب کا منتظر پایا۔ کراچی،پشاور، گلگت،سوات،ڈیرہ اسماعیل خان،فیصل آباد،کوئٹہ،ملتان حتیٰ کہ میرے ضلع فیصل آباد کے دور دراز کے گائوں سے بھی۔۔۔۔۔۔۔ سارا پاکستان موجود تھا۔ غیرمتوقع حاضری اور نان این جی او پروگرام ، عجیب ہے بھائی …… محسن عباس، نواز طاہر اور بلال سب کا استقبال کر رہے تھے۔
اسلام علیکم مصطفےٰ بھائی میں بلال ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوئے توں بلال ایں ، نہیں کسی بڑے کو بلائو ،تم نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔۔۔
پر واقعی وہ ابھی کھلنڈرہ نوجوان ہے اتنا کام کرنے والا پر ، ویسا ہی بچوں جیسا معصوم ،کہتا آپ بھی تو ویسے بوڑھے نہیں ہیں جتنا تصویروں میں بنایا ہو اہے۔ سب سے ملاقاتیں ہوئیں دو دن تک کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا ۔کتنے پیارے پیارے مخلص اور درد دل رکھنے والے دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ معروف شاعر فرحت عباس شاہ دونوں دن موجود رہے،نوجوان بلاگرز میں کاشف نصیر،شاکر عزیز،خرم ابن شبیر،راجہ اکرام،کراچی سے شعیب صفدر،اقبال حیات، غلام عباس،زوہیر چوہان،شاکر عزیز،سعد، جڑانوالہ سے ساجد امجد،سوات سے نعیم،پشاور سے مسرت اللہ جان،لنڈی کوتل سے بہت ہی پیارے مدثر شاہ، گوجرانوالہ سے فخر نوید،اسلام آباد سے مہتاب عزیز، لاہور سے سعد ملک،نجیب عالم ،کوئٹہ سے حسن معراج اور بہت پیارے ساتھی جن کا نام بھول گیا ہوں ان سے معذرت، پھر منتظمین میں خاموش طبع احمد ہمایوں اور ساتھی ۔۔۔۔۔
اللہ آپ سب کو اس کا خوش رکھے جس کام کی ابتدا آپ نے کر دی ہے اس کا صلہ آپ کو وہ ذات پاک ہی دے سکتی ہے کیونکہ ہم نے تو یہی کہنا ہے کہ

379238_3999677640894_1293204056_n"آٹا گھن دی کیوں ہل دی اے”

امید یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ نے ظلمت شب کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنے حصہ کا چراغ جلا دیا ہے
جیو محسن بھائی اور جیو بلال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویل ڈن

Advertisements

یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا 

پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتج بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے 

-یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

اک مرد قلندر

قاضی حسین آج ہم میں نہیں رہے لیکن دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی لوگ زندہ رہے جو انسانیت کی خدمت کرسکے اس کے علاوہ دوسروں کی حیثیت دیوار پر لگے کلینڈر جیسی رہی جسے سال گزرنے کے بعد ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور وہ کسی کو یاد بھی نہیں ہوتے۔ آج ماڈرن سائنس بھی یہ ماننے پر مجبور ہے کہ نیکی اور خدمت مرنے کے بعد بھی انسان کو مرنے نہیں دیتیں قوموں کی زندگی میں رول ماڈل ضروری ہوتے ہیں جو ان کی تاریخ رقم کرتے ہیں ہمارے پاسQazi Sahib بدقسمتی سے سیاستدان اور حکمران بہت ہیں لیکن لیڈر کم بقول نیلسن منڈیلا سیاستدان اگلے الیکشن کی فکر کرتا ہے لیکن لیڈر اگلی نسل کی فکر کرتا ہے ۔جب آپ روشنی میں ہوتے ہیں تو ہر چیز آپ کے پیچھے ہوتی ہے اور جب اندھرے میں ہوتے ہیں تو سایہ بھی پیچھا چھوڑ دیتا ہے۔ قاضی صاحب جیسے لوگوں نے ساری زندگی اقتدار سے زیادہ اقدار کی فکر کر نے میں گزار دی۔ تاریخ میں کتنے حکمران، ان کے اتحادی اور حواری قبرستان کی مٹی بنے مگر احترام بہت کم لوگوں نے کمایا عہدے اور حکمرانی تو ڈھلی چھائوں ہیں۔ تاریخ کا سفر رہتی دنیا تک چلتا رہے گا اور جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا پر اس کی گونج کہیں نہ کہیں زندہ رہے گی۔  پاکستان کی سیاسی تاریخ قاضی حسین احمد کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔

’’اماں!بھائی کب مرے گا؟‘‘

 عرصہ ہواایک ترک افسانہ پڑھا تھا، یہ میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتمل گھرانے کی کہانی تھی، جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگاہوا تھا، آخر اسی حالت میں ایک روز بچوں کو یتیم کرگیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ کھانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے باربار باہر نکل کر سامنے والے سفیدمکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے، وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہورہا ہے، جب بھی قدموں کی چاپ آتی انہیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آرہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے روٹی کے کچھ سوکھے ٹکڑے ڈھونڈ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلاپھسلاکر سلادیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی ’’تلاش‘‘ کے بعد دوچار چیزیں نکل آئیں، جنہیں کباڑیے کو فروخت کرکے دو، چار وقت کے کھانے کا انتظام ہوگیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہوگئے تو پھر جان کے لالے پڑگئے، بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا، ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچون کی دکان پر جاکھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہوکر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نہ صرف صاف انکار کردیا، بلکہ دوچارباتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔ ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اوپر سے مسلسل فاقہ، 8سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بخار میں مبتلاہوکر چارپائی پر پڑگیا، دوادارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ تک نہیں تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جبکہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبارہی تھی، اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگاکر بولی ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا ’’میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ بچی معصومیت سے بولی ’’ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!‘‘

 

 

 

لگے رہو منے بھائی باپ کا مال سمجھ کے

احساس محرومی، ناانصافی اورحق تلفی کی شکایت کرنے والی بلوچستان کی موجودہ حکومت نے ریاست کے وزیراعلی کے لیے ایک ارب تیس کروڑ روپے کا نیا جہاز خرید لیا ہے۔ یہ انکشاف صوبائی وزیر خزانہ میرعاصم کرد گیلو نے منگل کے روز کوئٹہ میں پوسٹ بجٹ بریفنگ کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے سے وزیراعلی کے پرانے جہاز پر چھ سے سات کروڑ روپے کا خرچہ بھی کیا لیکن اس کے باوجود دوتین حادثات ہوتے ہوتے بچ گئے۔صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ چار پانچ مہینے کے بعد تو ویسے ہی ہماری حکومت جا رہی ہے۔ لیکن جو جہاز خریدا گیا ہے اس سے آنے والی حکومت استفادہ کرے گی۔ مالی سال دو ہزارگیارہ اور بارہ میں گورنر بلوچستان کے سیکریٹ فنڈ کے لیے پچاس لاکھ روپے رکھے گئے تھے لیکن گورنر سیکریٹ فنڈکی مد میں سترہ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس طرح وزیراعلی بلوچستان کا بھی سیکریٹ فنڈ پچاس لاکھ روپے تھا لیکن وزیراعلی نے نو کروڑ پچاس لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ صوبے کے عوام کو جہاز کی نہیں بلکہ تعلیم ، صحت ، ڈیمز ، روزگار، سڑکیں اور امن کی ضرورت ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی وزرا اور ان کے عملے کے لیے گزشتہ سال تیئس کروڑ روپے رکھے گئے تھے لیکن اخراجات بیالیس کروڑ سے زائد ہوئے ہیں۔ یعنی مختص رقم سے بارہ کروڑ روپے زائد خرچ کئے گئے۔

لگے رہو منے بھائی باپ کا مال سمجھ کے