Tag Archives: chief justice of Pakistan

یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا 

پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتج بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے 

-یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

Advertisements

’’اماں!بھائی کب مرے گا؟‘‘

 عرصہ ہواایک ترک افسانہ پڑھا تھا، یہ میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتمل گھرانے کی کہانی تھی، جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگاہوا تھا، آخر اسی حالت میں ایک روز بچوں کو یتیم کرگیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ کھانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے باربار باہر نکل کر سامنے والے سفیدمکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے، وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہورہا ہے، جب بھی قدموں کی چاپ آتی انہیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آرہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے روٹی کے کچھ سوکھے ٹکڑے ڈھونڈ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلاپھسلاکر سلادیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی ’’تلاش‘‘ کے بعد دوچار چیزیں نکل آئیں، جنہیں کباڑیے کو فروخت کرکے دو، چار وقت کے کھانے کا انتظام ہوگیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہوگئے تو پھر جان کے لالے پڑگئے، بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا، ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچون کی دکان پر جاکھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہوکر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نہ صرف صاف انکار کردیا، بلکہ دوچارباتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔ ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اوپر سے مسلسل فاقہ، 8سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بخار میں مبتلاہوکر چارپائی پر پڑگیا، دوادارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ تک نہیں تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جبکہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبارہی تھی، اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگاکر بولی ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا ’’میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ بچی معصومیت سے بولی ’’ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!‘‘

 

 

 

لگے رہو منے بھائی باپ کا مال سمجھ کے

احساس محرومی، ناانصافی اورحق تلفی کی شکایت کرنے والی بلوچستان کی موجودہ حکومت نے ریاست کے وزیراعلی کے لیے ایک ارب تیس کروڑ روپے کا نیا جہاز خرید لیا ہے۔ یہ انکشاف صوبائی وزیر خزانہ میرعاصم کرد گیلو نے منگل کے روز کوئٹہ میں پوسٹ بجٹ بریفنگ کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے سے وزیراعلی کے پرانے جہاز پر چھ سے سات کروڑ روپے کا خرچہ بھی کیا لیکن اس کے باوجود دوتین حادثات ہوتے ہوتے بچ گئے۔صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ چار پانچ مہینے کے بعد تو ویسے ہی ہماری حکومت جا رہی ہے۔ لیکن جو جہاز خریدا گیا ہے اس سے آنے والی حکومت استفادہ کرے گی۔ مالی سال دو ہزارگیارہ اور بارہ میں گورنر بلوچستان کے سیکریٹ فنڈ کے لیے پچاس لاکھ روپے رکھے گئے تھے لیکن گورنر سیکریٹ فنڈکی مد میں سترہ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس طرح وزیراعلی بلوچستان کا بھی سیکریٹ فنڈ پچاس لاکھ روپے تھا لیکن وزیراعلی نے نو کروڑ پچاس لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ صوبے کے عوام کو جہاز کی نہیں بلکہ تعلیم ، صحت ، ڈیمز ، روزگار، سڑکیں اور امن کی ضرورت ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی وزرا اور ان کے عملے کے لیے گزشتہ سال تیئس کروڑ روپے رکھے گئے تھے لیکن اخراجات بیالیس کروڑ سے زائد ہوئے ہیں۔ یعنی مختص رقم سے بارہ کروڑ روپے زائد خرچ کئے گئے۔

لگے رہو منے بھائی باپ کا مال سمجھ کے

سچ یہی ہے کہ موجودہ حکمران خود ہمارے اپنے منتخب کردہ ہیں

-ایک شوہر نے اپنی پھوہڑ اور بدمزاج بیوی سے کہا ” بیگم اب اِس گھر کو تم ہی جنّت بنا سکتی ہو ” ۔ بیوی خوش ہو کر بولی ” وہ کس طرح ” ؟شوہر ٹھنڈی سانس لے کر بولا ” میکے جاکر ” ۔ موجودہ حکمرانوں نے پچھلے ساڑھے چار برسوں سے اِس ملک کو غریب عوام کیلیے جس طرح جہنّم بنایا ہوا ہے ، اب عوام کی بھی دِلی خواہش اُس مظلوم شوہر سے قطعی مختلف نہیں کہ موجودہ حکمران بھی جلد سے جلد ایوانِ اقتدار سے رُخصت ہو کر اپنے گھر چلے جائیں تو شائد اُن کی زندگیاں بھی آسان ہوجائیں اور وہ سُکھ کا سانس لے سکیں ۔ لیکن حکمرانوں نے بھی عوام کو بلیک میل کرنے کا عجیب و غریب طریقہ اپنایا ہوا ہے کہ اگر ہمیں گھر بھیجنے کی کوشش کی گئی تو موجودہ جمہوری سسٹم سے عوام ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور عوام آسمان کی طرف دیکھ کر پھر خدا سے شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ” اے اللہ اِس ” جمہوریت ” کو چومنے چاٹنے کے عوض تو ہمیں کتنی رکعتوں کا ثواب عطا فرمائیے گا ” ؟ ایک شکوہ مع جوابِ شکوہ تو حکیم الامت رقم فرما گئے ۔ اب ایک اور مظلوم شوہر کا شکوہ بھی لگے ہاتھوں سُن لیں ” اے اللہ تو نے بچپن دیا ، چھین لیا ، جوانی دی چھین لی ، پیسہ دیا واپس لے لیا ، ایک بیوی بھی دے رکھی ہے ۔ بھول گیا کیا ” ؟ عوام کوئی راستہ نہ پاکر آخرکار خدا سے ہی شکوہ کر کے کہتے ہیں ” اے خدا موجودہ حکمرانوں کی صورت میں ہم پر جو عذاب تو نے مُسلّط کیا ہوا ہے ، وہ ختم آخر کیوں نہیں ہوجاتا ؟ نعوذ باللہ ! یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ بھول جائے ، لہذا اِس سے قبل کہ اِس ناچیز پر کوئی کفر کا فتویٰ لگادے جلدی سے جوابِ شکوہ بھی سُن لیں قدرت اِس ملک کے ” بھولے بھالے ” عوام کا شکوہ سُن کر مُسکراتی ہے اور نہایت رسان سے کہتی ہے ” جیسے عوام ، ویسے حکمران ” کیا تمہیں میرا وعدہ یاد نہیں کہ ” اُس قوم کی حالت میں اُس وقت تک نہ بدلوں گا ، جب تک اُس قوم کو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ آئے ” ۔ کیا اِن حکمرانوں کو میں نے آسمان سے اُتارا ہے ؟ تم نے خود ہی تو اِنہیں منتخب کر کے اپنے اوپر مُسلّط کیا ہے ۔ پھر شکوہ کیسا ” ؟ یں

قابل رحم ہے وہ قوم جس کا حکمران سزا یافتہ مجرم ہو

 اٹارنی جنرل نے فرمایا کہ ’’ شعرو شاعری سے سزا نہیں دی جا سکتی‘‘ لیکن انہیں شاید یہ نہیں معلوم کہ جس شعرو شاعری کا وہ حوالہ دے ہیں اس کا تعلق سزا کے فیصلے سے نہیں ہے بلکہ فیصلے سے ہٹ کر جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ کا اضافی نوٹ ہے اور اس کا تعلق بھی اخلاقیات سے ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جسٹس کھوسہ نے لبنان کے عیسائی شاعر اور فلسفی خلیل جبران کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے وہ فیصلے کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی فیصلے کی جان ہے۔ اس سب کا تعلق بھی ا خلاقیات سے ہے لیکن اس میں غلط کیا ہے؟ یہ بات کس کو ناگوار گزری کہ’’ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے رہنما قانون کی نافرمانی کرکے شہادت کے متلاشی ہیں‘ قابل رحم ہے وہ قوم جس کے حکمران قانون کا مذاق اڑاتے ہیں اور قابل رحم ہے وہ قوم جو اپنے کمزوروں کو سزا دیتی ہے مگر طاقت وروں کو کٹہرے میں لانے سے کتراتی ہے ۔ ترس آتاہے ایسی قوم پر جو مخصوص افراد کے لیے من پسند انصاف چاہتی ہے‘‘۔ اگر پاکستان میں صورتحال ایسی ہی ہے تو اس کے ذمہ داران کو شرم کرنی چاہیے اور اگر وہ سمھجتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے تو چراغ پا ہونے کی ضرورت نہیں۔ مگر اس کا کیا کیاجائے کہ یہ قوم واقعی قابل رحم ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی فی الوقت تو مجرم ہو گئے لیکن وہ نجانے کس حد تک جانے کی بات کرتے ہیں اور وکیل استغاثہ مجرم کی پشت پر کھڑا اعلان کررہاہے کہ فیصلہ تسلیم نہ کیاجائے۔ کیا اس لیے کہ مخصوص فرد کو من پسند ’’انصاف ‘‘ نہیں ملا۔ گیلانی صاحب خط لکھ دینے سے آپ کے صدر کا کچھ نہ بگڑتا مگر آپ نے خود بات بگاڑدی۔ قابل رحم ہے وہ قوم جس کا حکمران سزا یافتہ مجرم ہو۔