Monthly Archives: جنوری, 2013

,ہم بھی وہاں موجود تھے , دو روزہ عالمی اردو بلاگرز کانفرنس

فیس بک اردوبلاگرز گروپ پر اس کانفرنس کا دعوت نامہ ملا تو بہت سے لوگوں کی طرح ہمیں بھی لگا کہ میلہ کسی اور نے کسی اور کے کہنے پر کسی اور کے ایجنڈا پر سجانا ہوگا۔بہر حال رجسٹریشن کر وا دی تو منتظمین کی طرف سے باقاعدہ دعوت نامہ اور تفصیلات بھی موصول ہو گیئں۔ ایم بلال ایم کا نام پڑھ کر بھی پروگرام بنایا کہ چلو یار اس نیک بندے سے تو ملاقات ہو گی جس نے مجھ جیسے ہزاروں افراد کے لئے اردو کمپیوٹنگ کو آسان بنایا۔26جنوری کی علی الصبح لاہور کے لئے روانہ ہوئے اور سیدھے ایوان صنعت و تجارت کی بلڈنگ پہنچ کر دم لیا تو منتظمین کو وہاں سب کا منتظر پایا۔ کراچی،پشاور، گلگت،سوات،ڈیرہ اسماعیل خان،فیصل آباد،کوئٹہ،ملتان حتیٰ کہ میرے ضلع فیصل آباد کے دور دراز کے گائوں سے بھی۔۔۔۔۔۔۔ سارا پاکستان موجود تھا۔ غیرمتوقع حاضری اور نان این جی او پروگرام ، عجیب ہے بھائی …… محسن عباس، نواز طاہر اور بلال سب کا استقبال کر رہے تھے۔
اسلام علیکم مصطفےٰ بھائی میں بلال ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوئے توں بلال ایں ، نہیں کسی بڑے کو بلائو ،تم نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔۔۔
پر واقعی وہ ابھی کھلنڈرہ نوجوان ہے اتنا کام کرنے والا پر ، ویسا ہی بچوں جیسا معصوم ،کہتا آپ بھی تو ویسے بوڑھے نہیں ہیں جتنا تصویروں میں بنایا ہو اہے۔ سب سے ملاقاتیں ہوئیں دو دن تک کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا ۔کتنے پیارے پیارے مخلص اور درد دل رکھنے والے دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ معروف شاعر فرحت عباس شاہ دونوں دن موجود رہے،نوجوان بلاگرز میں کاشف نصیر،شاکر عزیز،خرم ابن شبیر،راجہ اکرام،کراچی سے شعیب صفدر،اقبال حیات، غلام عباس،زوہیر چوہان،شاکر عزیز،سعد، جڑانوالہ سے ساجد امجد،سوات سے نعیم،پشاور سے مسرت اللہ جان،لنڈی کوتل سے بہت ہی پیارے مدثر شاہ، گوجرانوالہ سے فخر نوید،اسلام آباد سے مہتاب عزیز، لاہور سے سعد ملک،نجیب عالم ،کوئٹہ سے حسن معراج اور بہت پیارے ساتھی جن کا نام بھول گیا ہوں ان سے معذرت، پھر منتظمین میں خاموش طبع احمد ہمایوں اور ساتھی ۔۔۔۔۔
اللہ آپ سب کو اس کا خوش رکھے جس کام کی ابتدا آپ نے کر دی ہے اس کا صلہ آپ کو وہ ذات پاک ہی دے سکتی ہے کیونکہ ہم نے تو یہی کہنا ہے کہ

379238_3999677640894_1293204056_n"آٹا گھن دی کیوں ہل دی اے”

امید یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ آپ نے ظلمت شب کا شکوہ کرنے کی بجائے اپنے حصہ کا چراغ جلا دیا ہے
جیو محسن بھائی اور جیو بلال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویل ڈن

Advertisements

یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا 

پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتج بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے 

-یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

اک مرد قلندر

قاضی حسین آج ہم میں نہیں رہے لیکن دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ وہی لوگ زندہ رہے جو انسانیت کی خدمت کرسکے اس کے علاوہ دوسروں کی حیثیت دیوار پر لگے کلینڈر جیسی رہی جسے سال گزرنے کے بعد ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور وہ کسی کو یاد بھی نہیں ہوتے۔ آج ماڈرن سائنس بھی یہ ماننے پر مجبور ہے کہ نیکی اور خدمت مرنے کے بعد بھی انسان کو مرنے نہیں دیتیں قوموں کی زندگی میں رول ماڈل ضروری ہوتے ہیں جو ان کی تاریخ رقم کرتے ہیں ہمارے پاسQazi Sahib بدقسمتی سے سیاستدان اور حکمران بہت ہیں لیکن لیڈر کم بقول نیلسن منڈیلا سیاستدان اگلے الیکشن کی فکر کرتا ہے لیکن لیڈر اگلی نسل کی فکر کرتا ہے ۔جب آپ روشنی میں ہوتے ہیں تو ہر چیز آپ کے پیچھے ہوتی ہے اور جب اندھرے میں ہوتے ہیں تو سایہ بھی پیچھا چھوڑ دیتا ہے۔ قاضی صاحب جیسے لوگوں نے ساری زندگی اقتدار سے زیادہ اقدار کی فکر کر نے میں گزار دی۔ تاریخ میں کتنے حکمران، ان کے اتحادی اور حواری قبرستان کی مٹی بنے مگر احترام بہت کم لوگوں نے کمایا عہدے اور حکمرانی تو ڈھلی چھائوں ہیں۔ تاریخ کا سفر رہتی دنیا تک چلتا رہے گا اور جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا پر اس کی گونج کہیں نہ کہیں زندہ رہے گی۔  پاکستان کی سیاسی تاریخ قاضی حسین احمد کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔