Tag Archives: Muatafa Malik

روشن پاکستان

 فیس بک پر چیٹ کرتے ہوئے اس نے اچانک پوچھا

 ہواز دا ویدر ٹو یور کنٹری؟

میں نے فوراً جواب دیا

ونڈرفل  اینڈ مچ پلیزنٹ، رین ن رین ایوری وئر این سنو فالنگ

اس کے رپلائی نے مجھے حیرت کے سمند ر میں ڈبو دیا۔

اس نے  لکھا

Whaaaaaaaaaaaaaaaaatttttt

R U Right

Is it in Pakistan .I always think nothing in ur country only deserts no roads, no

education, no electricity Only terrorist every where

میں اس کو پاکستان کے بارے میں بتانا شروع کیا تو  اس کی آنکھیں کھلنا شروع ہوئیں،

پاکستان میں دنیا کی سب سے بڑی نمک کی کان ہے،پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے،

پاکستان ان چند خوش نصیب ملکوں میں شمار ہوتا ہے جہاں چارون موسم آتے ہیں،

پاکستان  کی کاٹن دنیا کی بہترین کاٹن تصور کی جاتی ہے،

پاکستان کے کرنل باسمتی کا دنیا میں کوئی متبادل نہیں،

تب ذہن میں آیا کہ فیس بک پر کوئی ایسا پیچ بنایا جائے جس سے وطن عزیز کا ہر روشن پہلو نمایاں ہو

جہاں سے دنیا کو یہ پیغام جائے کہ ہم دہشت گرد نہیں پرامن شہری ہیں

ہمارے ملک کے شمالی علاقوں کاحسن کسی طور سوئزر لینڈ سے کم نہیں

میں نے "روشن پاکستان”کے نام سے فیس بک پر پیج بناے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ہم پاکستان  کے مثبت پہلوئوں کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کریں گے

یہ بات میرے ذہن میں کھٹک رہی ہے کہ” روشن پاکستان” اردو نام ہے اس کا اگر کوئی انگلش نام  تلاش کرلیا جاPakistanئے تو بہتر ہے 

آپ کی قیمتی آراء کا منتظر رہوں گا

 

 

 

Advertisements

یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

کوئٹہ میں رگوں میں اتر جانے والی سردی ہے، درجہ حرارت منفی آٹھ سے بھی بڑھ چکا ہے. معصوم بچے اور باپردہ خواتین گزشتہ تین دن سے اپنے بیاسی بے گناہ پیاروں کی لاشیں لئے بیٹھے ہیں۔ایسا احتجاج تو شائد معلوم تاریخ میں کہیں نہ ہوا ہو۔اس نے ملک کے کونے کونے میں موجود ہر انسان کو ہلا کر رکھ دیا 

پاکستان کی تاریخ کا دردناک احتج بےحس حکمران خاموش تماشا ئی بنے ہوئے ہیں ۔ کب ان کی غیرت جاگے گی کب تک ہم یونہی بے گناہوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ سینکڑوں لوگ لاشوں کو لے کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ پکار پکار کر پوری قوم کو اپنی بے بسی سے آگاہ کررہے ہیں ان کی آواز میں آواز ملانا پوری قوم کا فرض ہے ۔ آج وہ جس اذیت سے دوچار ہیں اگر ان کا ساتھ نہ دیا گیا تو کل دوسرے صوبے میں بھی لوگ میتیں اٹھانے پر مجبور ہوں گے ۔ پوری قوم شہدا کے خاندانوں سے مکمل یکجہتی اور دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے ۔ وفاقی حکومت کو ان کے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے فوری طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے 

-یا میرے مولا کیا تیرے ہاں بھی ان حکمرانوں کے لئے استشنا ء ہے ؟

لگے رہو منے بھائی باپ کا مال سمجھ کے

احساس محرومی، ناانصافی اورحق تلفی کی شکایت کرنے والی بلوچستان کی موجودہ حکومت نے ریاست کے وزیراعلی کے لیے ایک ارب تیس کروڑ روپے کا نیا جہاز خرید لیا ہے۔ یہ انکشاف صوبائی وزیر خزانہ میرعاصم کرد گیلو نے منگل کے روز کوئٹہ میں پوسٹ بجٹ بریفنگ کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے سے وزیراعلی کے پرانے جہاز پر چھ سے سات کروڑ روپے کا خرچہ بھی کیا لیکن اس کے باوجود دوتین حادثات ہوتے ہوتے بچ گئے۔صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ چار پانچ مہینے کے بعد تو ویسے ہی ہماری حکومت جا رہی ہے۔ لیکن جو جہاز خریدا گیا ہے اس سے آنے والی حکومت استفادہ کرے گی۔ مالی سال دو ہزارگیارہ اور بارہ میں گورنر بلوچستان کے سیکریٹ فنڈ کے لیے پچاس لاکھ روپے رکھے گئے تھے لیکن گورنر سیکریٹ فنڈکی مد میں سترہ کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس طرح وزیراعلی بلوچستان کا بھی سیکریٹ فنڈ پچاس لاکھ روپے تھا لیکن وزیراعلی نے نو کروڑ پچاس لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ صوبے کے عوام کو جہاز کی نہیں بلکہ تعلیم ، صحت ، ڈیمز ، روزگار، سڑکیں اور امن کی ضرورت ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی وزرا اور ان کے عملے کے لیے گزشتہ سال تیئس کروڑ روپے رکھے گئے تھے لیکن اخراجات بیالیس کروڑ سے زائد ہوئے ہیں۔ یعنی مختص رقم سے بارہ کروڑ روپے زائد خرچ کئے گئے۔

لگے رہو منے بھائی باپ کا مال سمجھ کے

سچ یہی ہے کہ موجودہ حکمران خود ہمارے اپنے منتخب کردہ ہیں

-ایک شوہر نے اپنی پھوہڑ اور بدمزاج بیوی سے کہا ” بیگم اب اِس گھر کو تم ہی جنّت بنا سکتی ہو ” ۔ بیوی خوش ہو کر بولی ” وہ کس طرح ” ؟شوہر ٹھنڈی سانس لے کر بولا ” میکے جاکر ” ۔ موجودہ حکمرانوں نے پچھلے ساڑھے چار برسوں سے اِس ملک کو غریب عوام کیلیے جس طرح جہنّم بنایا ہوا ہے ، اب عوام کی بھی دِلی خواہش اُس مظلوم شوہر سے قطعی مختلف نہیں کہ موجودہ حکمران بھی جلد سے جلد ایوانِ اقتدار سے رُخصت ہو کر اپنے گھر چلے جائیں تو شائد اُن کی زندگیاں بھی آسان ہوجائیں اور وہ سُکھ کا سانس لے سکیں ۔ لیکن حکمرانوں نے بھی عوام کو بلیک میل کرنے کا عجیب و غریب طریقہ اپنایا ہوا ہے کہ اگر ہمیں گھر بھیجنے کی کوشش کی گئی تو موجودہ جمہوری سسٹم سے عوام ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور عوام آسمان کی طرف دیکھ کر پھر خدا سے شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ” اے اللہ اِس ” جمہوریت ” کو چومنے چاٹنے کے عوض تو ہمیں کتنی رکعتوں کا ثواب عطا فرمائیے گا ” ؟ ایک شکوہ مع جوابِ شکوہ تو حکیم الامت رقم فرما گئے ۔ اب ایک اور مظلوم شوہر کا شکوہ بھی لگے ہاتھوں سُن لیں ” اے اللہ تو نے بچپن دیا ، چھین لیا ، جوانی دی چھین لی ، پیسہ دیا واپس لے لیا ، ایک بیوی بھی دے رکھی ہے ۔ بھول گیا کیا ” ؟ عوام کوئی راستہ نہ پاکر آخرکار خدا سے ہی شکوہ کر کے کہتے ہیں ” اے خدا موجودہ حکمرانوں کی صورت میں ہم پر جو عذاب تو نے مُسلّط کیا ہوا ہے ، وہ ختم آخر کیوں نہیں ہوجاتا ؟ نعوذ باللہ ! یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ بھول جائے ، لہذا اِس سے قبل کہ اِس ناچیز پر کوئی کفر کا فتویٰ لگادے جلدی سے جوابِ شکوہ بھی سُن لیں قدرت اِس ملک کے ” بھولے بھالے ” عوام کا شکوہ سُن کر مُسکراتی ہے اور نہایت رسان سے کہتی ہے ” جیسے عوام ، ویسے حکمران ” کیا تمہیں میرا وعدہ یاد نہیں کہ ” اُس قوم کی حالت میں اُس وقت تک نہ بدلوں گا ، جب تک اُس قوم کو خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ آئے ” ۔ کیا اِن حکمرانوں کو میں نے آسمان سے اُتارا ہے ؟ تم نے خود ہی تو اِنہیں منتخب کر کے اپنے اوپر مُسلّط کیا ہے ۔ پھر شکوہ کیسا ” ؟ یں

پیپلزپارٹی کی حکومت کے چارسال مکمل

پیپلزپارٹی کی حکومت کے چارسال مکمل ہوچکے ہیں۔ صدراوروزیراعظم اس پر داد طلب ہیں۔ ادھرملک بھرکے عوام کے صبرکا پیمانہ لبریزہوچکاہے۔ ہرطرف احتجاج ہے‘ مظاہرے ہیں اور حکمرانوں کے خلاف نعرے,۔یکم اپریل سے ایک بارپھرتیل وگیس کی قیمت میں ظالمانہ اضافہ کرنے پرتاجرتک بلبلااٹھے ہیں۔ تاجربرادری نے سول نافرمانی کی دھمکی دے دی اور ٹرانسپورٹرز کرائے بڑھانے کا اعلان کررہے ہیں‘ پنجاب میں توکرائے بڑھابھی دیے گئے۔ ان چاربرسوں میں بدامنی‘ مہنگائی اور بیروزگاری میں بے تحاشہ اضافہ ہواہے‘ صنعتیں بندہورہی ہیں‘ عوام مہنگائی کے ہاتھوں بے حال ہیں۔ اونچے ایوانوں کے روزکے اخراجات بڑھتے جارہے ہیں۔ ان چاربرسوں میں حکومت نے اتنا قرض چڑھالیاہے جو قیام پاکستان کے بعد سے چارسال پہلے تک لیے جانے والے قرض سے زیادہ ہے۔ جہاں منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے ریکارڈ توڑا گیا وہیں قرض لینے کا بھی نیا ریکارڈ قائم کیاگیا۔ یہ قرض حکمران نہیں عوام اداکریں گے اس لیے حکمرانوں کو کوئی فکر بھی نہیں کہ وقت آیا تو وہ اپنا سامان سمیٹ کر ایوانوں سے چلتے بنیں گے